حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، قم کے امام جمعہ آیت اللہ سید محمد سعیدی نے ایامِ فاطمیہ کی مناسبت سے نماز جمعہ کے خطبے میں کہا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشنودی اور ناراضگی کو اپنی خوشنودی اور ناراضی سے جوڑ دیا ہے، تاکہ امت کو راہِ حق پر قائم رکھا جائے۔ آج کا اہم سبق یہ ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تمام اداروں کو امام علی علیہ السلام کی ولایت سے وابستہ رہتے ہوئے ہر معاملے میں حضرت زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشنودی اور ناراضگی کو اپنا معیار بنانا چاہیے۔
انہوں نے مسجد نبوی میں حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کے تاریخی خطبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آپ نے اپنے قیام اور جدوجہد کے ذریعے ان سازشوں کو بے نقاب کیا جن کے ذریعے منافقین اسلامی نظام کو نقصان پہنچانا چاہتے تھے۔ آپ نے غدیر خم کے عظیم واقعے کو نظر انداز کرنے پر مدینہ کے عہد شکن لوگوں کی بھی سرزنش کی۔
آیت اللہ سعیدی نے کہا کہ منافقین کے بارے میں دو کام ضروری ہیں: ایک ان کی صفات، سازشوں اور فتنوں کو بیان کرنا اور دوسرا ان کے اصل چہروں کو سامنے لانا۔ اگر کسی تحریک اور انقلاب میں منافقین کو بے نقاب نہ کیا جائے تو وہ ناقابلِ تلافی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بھی آیات، روایات اور مختلف واقعات کے ذریعے منافقین کو پہچنوایا اور ان کے بارے میں مسلمانوں کی ذمہ داری واضح کی
انہوں نے مزید کہا کہ منافقین کی شناخت اور ان کے اصل چہروں کو سامنے لانے کی اہم ذمہ داری حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا نے ادا کی۔ آپ کے خطبے اور طرزِ عمل نے ان لوگوں کو بے نقاب کردیا جو اسلام کو نقصان پہنچانے کے لیے اپنے چہروں پر نقاب ڈالے ہوئے تھے۔
انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اس حدیث کا حوالہ دیا: «إِنَّ اللَّهَ لَيَغْضَبُ لِغَضَبِ فَاطِمَةَ» یعنی اللہ تعالیٰ فاطمہ کے غضب سے غضب ناک اور آپ کی خوشنودی سے خوشنود ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج بھی بعض سیاسی حلقے عوام کی خوشنودی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے واضح کردیا ہے کہ اصل معیار حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا کی خوشنودی اور ناراضگی ہے۔
نماز جمعہ کے دوسرے حصے میں انہوں نے روز جوان اور شہید حسین فہمیدہ کی برسی کا ذکر کرتے ہوئے انہیں نوجوانوں کے لیے نمونہ قرار دیا۔ انہوں نے دفاعِ غیر عامل کو خطرات کے مقابلے میں ایک مؤثر دفاعی طریقہ بتایا اور کہا کہ اس کی کامیابی کے لیے حکام کے تعاون اور عوام کی مدد ضروری ہے۔
آیت اللہ سعیدی نے 13 آبان 1358 ہجری شمسی کو امریکی جاسوسی اڈے پر قبضے کی سالگرہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امریکہ کے ساتھ چیلنج کا معاملہ مغربی ایشیا سے اس کی ناجائز مداخلت ختم کرنے کا ہے۔
خطیب جمعہ قم نے پہلے خطبے میں سورۂ بقرہ کی آیت 197 کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آخرت کے سفر کے لیے بہترین زادِ راہ تقویٰ ہے۔ انہوں نے سورۂ فتح کی آیت 29 کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایک حقیقی اسلامی معاشرہ دشمنوں کے مقابلے میں مضبوط اور اپنے لوگوں کے لیے مہربان ہوتا ہے، لیکن اس طاقت اور مہربانی کی اصل بنیاد اللہ کی عبادت اور بندگی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی معاشرے کی طاقت غرور اور خود پسندی سے نہیں، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی اور بندگی سے پیدا ہوتی ہے۔ جتنا معاشرہ طاقتور ہوتا جائے، اتنا ہی اسے اللہ کے سامنے زیادہ جھکنا چاہیے۔ عبادت انسان کو معاشرے سے الگ نہیں کرتی، بلکہ ایک بہتر اور مضبوط معاشرے کی تعمیر کی بنیاد فراہم کرتی ہے۔










آپ کا تبصرہ